مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ڈاکٹر مسعود پزشکیان نے ہندوستان کے مذہبی رہنماؤں، ممتاز شخصیات اور تاجروں کے ساتھ مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ایرانی قوم کے خلاف امریکہ کی زیادہ سے زیادہ دباؤ کی پالیسیوں کا حوالہ دیا اور کہا کہ امریکہ چونکہ دھونس اور طاقت کے ذریعے ایرانی عوام کو تسلیم کرنے پر مجبور نہیں کر سکتا، اس لیے وہ چاہتا ہے کہ عوام روزگار، معاش اور بنیادی سہولیات کی کمی کے باعث ہتھیار ڈال دیں؛ لیکن ایرانی عوام تسلیم نہیں ہوں گے۔
ایرانی صدر نے مغربی طاقتوں کے متضاد طرزِ عمل کی وضاحت کرتے ہوئے مزید کہا کہ اگر یہ مرد جنگ ہیں تو فوجیوں سے جنگ کریں؛ عوام کی معیشت اور بنیادی ڈھانچے سے ان کا کیا واسطہ؟ اگر یہ انسان ہیں تو پھر عوام کے پانی اور خوراک کے راستے کیوں روکتے ہیں؟
انہوں نے یہ سوال اٹھاتے ہوئے کہ ’’کس نے کہا ہے کہ کوئی ایک حکومت پوری دنیا کے لیے فیصلے کر سکتی ہے اور اپنی مذموم خواہشات دوسروں پر مسلط کر سکتی ہے؟“ ایک منصفانہ عالمی نظام کی ازسرِنو تشکیل کی ضرورت پر زور دیا۔
ڈاکٹر پزشکیان نے تمام انسانوں کے مساوی حقوق کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ تمام انسان برابر حقوق رکھتے ہیں اور انہیں عدل و انصاف کے ساتھ مل جل کر زندگی گزارنی چاہیے؛ ہماری خواہش یہی ہے، لیکن وہ ایسا نہیں چاہتے۔
ایرانی صدر نے آخر میں یہ بیان کرتے ہوئے کہ ہم حق کے حصول کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں اور ظلم کے سامنے سر نہیں جھکائیں گے؛ واضح کیا کہ ایرانی قوم اپنے انسانی اور اعتقادی اصولوں کی بنیاد پر دباؤ اور زور زبردستی کے سامنے تسلیم نہیں ہوگی۔
آپ کا تبصرہ